Skip to main content

یہ بارشیں بھی تم سے ہیں !

 ابھی مون سون شروع ہوا ہے اور ایک سو گیارہ لوگ سیلاب اور بارشوں کی نظر ہو چکے ، پاکستان میں ہر سال سینکڑوں لوگ اس طرح بارشوں کی نظر ہو جاتے ہیں، ہمُ سب نے وہ منظر بھی دیکھا جب چار گھنٹے تک ایک فیملی سمیت گیارہ لوگ سوات میں سیلاب میں بہہ گئے، ایک ایک کر کے لوگوں کے سامنے گیارہ لوگ تیز سیلابی ریلے میں بہتے رہے لیکن کوئی سرکاری ادارہ کوئی ہیلی کاپٹر انکو بچانے نہ آیا، عمران خان اور دوسرے سیاسی رہنماؤں کے لیے ٹیکسی کا کردار ادا کرنے والے ہیلی کاپٹر اڑے نہ غیر ملکیوں کو پہاڑوں پر ریسکیو کرنے والی پاک فوج آئی، دریا کنارے کھڑے لوگ بےبسی اور بزدلی کی تصویر بنے رہے، نہ کسی نے انکو تیرنے یا ریسکیو کرنے کی تربیت دی اور نہ ہی دریا نے اتنی مہلت دی کہ وہ کچھ کر سکیں ، لیکن کہانی ادھر ہی ختم نہیں ہوتی اس کے بعد کے دنوں نے پی در پے ایسے کئی واقعات رونما ہوئے جن میں سیلاب اور بارشوں کے خلاف ہماری تیاری کا پول کھولا، دوسری قدرتی آفات کے برعکس  سیلاب اور بارشوں کا پہلے سے پتہ لگایا جا سکتا ہے اور جب سیلاب ایک تہوار کی طرح ہر سال آئے تو ڈرینج سسٹمز اور برساتی نالے بنائے جاتے ہیں آبادیوں کو سیلابی علاقوں سے مستقل طور پر منتقل کیا جاتا ہے لیکن ہمارے ہاں بس فوج بلا لی جاتی ہے تاکہ واہ واہ سمیٹی جا سکے، قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے تک سویلینز کی بجائے فوج چلا رہی ہوتی ہے، اور سارا زور رسکیو اور بحالی پر دیا جاتا ہے کیونکہ پہلے سے تیاری اور بچاؤ ہونے سے نہ تو تصویر بنتی ہے نہ ہی آپکو کوئی مسیحا کہتا ہے۔





Comments

Popular posts from this blog

Hey AI, Write my research article !

     In today's world, research is the basis of progress, innovation, and intellectual growth. Universities, as the bastions of knowledge and inquiry, have long been the driving force behind groundbreaking discoveries and advancements across various disciplines. However, with the rise of artificial intelligence (AI), new ethical challenges have emerged that demand careful scrutiny and responsible action.      University research has evolved dramatically over the past few decades. The traditional model of solitary scholars working in isolation has given way to a more collaborative and interdisciplinary approach. Researchers now work across boundaries, leveraging diverse expertise to tackle complex problems that span multiple fields.  The complexity of modern problems, such as climate change, disease outbreaks like COVID, and technological advancements, requires expertise from various disciplines. Universities have responded by fostering interdisciplinar...

A case study of methods to minimize Research Bias

A case study of methods to minimize Research Bias Muhammad Shahid Imran (Research Scholar, Mphil) University of Central Punjab dj.shaa@yahoo.com Dr Zakria Zakar, Professor University of the Punjab mzzakir@yahoo.com Introduction The term bias in research is by no means straightforward in meaning. Usually it refers to systematic error or deviation from actual results due to different intervening and mediating variables mostly affecting the objectivity of research. It can also be conscious or unconscious impact of researcher’s personal likeness or failure to interpret results which may lead to erroneous conclusions.   Researchers see bias as big obstacle in achieving credibility and accuracy in research. As influence of personal or ideological beliefs on their methods to achieve a certain results can endanger principle of impartiality. (Research Integrity, Scientific Misconduct, 2014) While conducting an empirical social science research, a researcher ma...

تعلقات عامہ اور پاکستانی فوج

تعلقات عامہ نے حالیہ دور میں بہت ترقی کی ہے چیزیں اب دعا سلام، فیکس مشین، اور چند جرنلسٹ خریدنے سے آگے بڑھ چکی ہیں، سوشل میڈیا کے آغاز سے امیج بلڈنگ کا کام ایک ہی وقت میں آسان اور مشکل ہوتا گیا، آسان اس لیے کہ اب آپ اخبارات اور ٹی وی ایڈیٹروں کی پسند نہ پسند پر قناعت کرنے کی بجائے منٹوں میں وائرل ہونے والی خبریں خود لگا سکتے ہیں بس اسکے لیے سوشل میڈیا سائٹس کے الگوریدم اور سرچ انجن اپٹمائزیشن کا خاطر خواہ علم ہونا چاہئیے۔  لیکن ہمارے اداروں چاہے وہ پنجاب کا تعلقات عامہ ہو یا پاک فوج کا نے اپنی روش نہ بدلی، دونوں میں سب سے بڑی مماثلت یہ ہے کہ جو بھی امیج بلڈنگ کی جاتی ہے وہ ادارے کی بجائے ادارے کے سربراہ، اسکے منسٹر یا پھر سیکرٹری کے لیے کی جاتی ہے، دوران ملازمت مجھے اس بات پر بہت حیرت ہوتی کہ ادارے کو مقدم رکھنے کی بجائے ہم نے ایک فرد کو ادارہ بنایا ہوتا ہے، ہر چیز اس سے منسوب کی جاتی ہے اگر وہ کہیں وزٹ کرتا ہے تو آپکی قابلیت اس چیز سے معلوم ہوتی ہے کہ بطور پی آر او آپ کتنے چینلز پر ٹیکر چلوا پاتے ہیں اور اگر کوئی ادارے کی ایسی کامیابی ہے جس میں منسٹر صاحب کا دور دور تک کوئی ہاتھ ن...