Skip to main content

What Tribune tells about Islamophobia

Comments

Popular posts from this blog

Hey AI, Write my research article !

     In today's world, research is the basis of progress, innovation, and intellectual growth. Universities, as the bastions of knowledge and inquiry, have long been the driving force behind groundbreaking discoveries and advancements across various disciplines. However, with the rise of artificial intelligence (AI), new ethical challenges have emerged that demand careful scrutiny and responsible action.      University research has evolved dramatically over the past few decades. The traditional model of solitary scholars working in isolation has given way to a more collaborative and interdisciplinary approach. Researchers now work across boundaries, leveraging diverse expertise to tackle complex problems that span multiple fields.  The complexity of modern problems, such as climate change, disease outbreaks like COVID, and technological advancements, requires expertise from various disciplines. Universities have responded by fostering interdisciplinar...

تعلقات عامہ اور پاکستانی فوج

تعلقات عامہ نے حالیہ دور میں بہت ترقی کی ہے چیزیں اب دعا سلام، فیکس مشین، اور چند جرنلسٹ خریدنے سے آگے بڑھ چکی ہیں، سوشل میڈیا کے آغاز سے امیج بلڈنگ کا کام ایک ہی وقت میں آسان اور مشکل ہوتا گیا، آسان اس لیے کہ اب آپ اخبارات اور ٹی وی ایڈیٹروں کی پسند نہ پسند پر قناعت کرنے کی بجائے منٹوں میں وائرل ہونے والی خبریں خود لگا سکتے ہیں بس اسکے لیے سوشل میڈیا سائٹس کے الگوریدم اور سرچ انجن اپٹمائزیشن کا خاطر خواہ علم ہونا چاہئیے۔  لیکن ہمارے اداروں چاہے وہ پنجاب کا تعلقات عامہ ہو یا پاک فوج کا نے اپنی روش نہ بدلی، دونوں میں سب سے بڑی مماثلت یہ ہے کہ جو بھی امیج بلڈنگ کی جاتی ہے وہ ادارے کی بجائے ادارے کے سربراہ، اسکے منسٹر یا پھر سیکرٹری کے لیے کی جاتی ہے، دوران ملازمت مجھے اس بات پر بہت حیرت ہوتی کہ ادارے کو مقدم رکھنے کی بجائے ہم نے ایک فرد کو ادارہ بنایا ہوتا ہے، ہر چیز اس سے منسوب کی جاتی ہے اگر وہ کہیں وزٹ کرتا ہے تو آپکی قابلیت اس چیز سے معلوم ہوتی ہے کہ بطور پی آر او آپ کتنے چینلز پر ٹیکر چلوا پاتے ہیں اور اگر کوئی ادارے کی ایسی کامیابی ہے جس میں منسٹر صاحب کا دور دور تک کوئی ہاتھ ن...

سیلاب ، طاقت اور تباہی

سیلاب سے متعلق بہت سی سیاسی اور جذباتی باتیں سوشل میڈیا پر سننے اور دیکھنے کو ملی جو کہ کسی بھی حادثہ کے نتیجہ میں ایک عمومی  ردعمل ہوتا ہے لیکن میں باوجود اپنی علمی کمیابی کہ اس پر تھوڑی بات کرنا چاہتا ہوں -پہلی بات یہ سیلاب اور اس کے نتیجے میں ہونے والی تباہ کاریاں کا ذمہ دار اپنے گناہوں یا اس میں بہہ جانے والے لوگوں کو نہ دیں اس سب کی ذمہ داری حکومت پاکستان، صوبائی اور وفاقی پلاننگ اور ڈازسٹر مینجمنٹ کے ادارے پر آتی ہے، کس نے کہاں کیا تعمیر کیا اور کس نے کہاں سے بند توڑا ، گلیشیر پگھل گیا یا کلاوڈ برسٹ ہوا اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا جب آپ نے لوگوں کو اس طرح کے حالات کے لیے تیار ہی نہیں کیا اور نہ اس حساب سے پلاننگ کی۔ -سب تباہ کاریوں کی جڑ معاشی پلاننگ ہے، جو چند دولت مند خاندان ہیں ساری پلاننگ روڈ اور انفراسٹراکچر سب ان کو آسانی دینے کے لیے بنایا جاتا ہے جب کہ ان کے پاس سیلاب کی صورت میں فوری نقل مکانی اور متبادل رہائش جیسے وسائل پہلے سے موجود ہوتے ہیں  -ہمارے سب سے زیادہ متاثرہ طبقہ کا تعلق ایسے پیشوں سے ہوتا ہے جو سیلاب کے بعد ایک ایک سال تک دوبارہ چلائے نہیں جا سکتے جیسا ...